بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نیویارک ٹائمز نے باخبر امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ اس وقت ایران پر حملے بڑھانے کے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور یہ فیصلہ کئی اہم وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، جن میں امریکی فوج کے دفاعی ذخائر کی شدید کمی، بھی شامل ہے۔
ٹرمپ اپنی شیخیوں اور باتونی پن کے ساتھ ساتھ "سفارتکاری کو وقت دینے" کے بارے میں بولنے لگا ہے اور شیخیوں کے امتداد میں کہا ہے کہ اگر ایران امریکہ کے مطالبات کو 100 فیصد تسلیم نہیں کرتا ہے تو وہ کیا کر بیٹھے گا اور کیا نہیں کرے گا، لیکن امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو فی الحال سفارت کاری نے نہیں بلکہ دیگر اہم مسائل کے خوف نے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روک لیا ہے۔
اس حوالے سے نیویارک ٹائمز اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم وقتی طور پر ایران پر حملے بڑھانے کے اپنے منصوبے کو ترک کر دیا ہے۔ کیونکہ جنگ میں اضافہ پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کو تشویشناک حد تک کم کر رہا تھا۔
رپورٹ کا خلاصہ:
ایئر-میزائل ڈیفنس کے گولہ بارود کے ذخائر کی کمی؛ مرکزی وجہ
نیویارک ٹائمز کے مطابق، جنگ میں شدت لانے سے پیٹریاٹ میزائل اور دیگر ایئر-میزائل ڈیفنس گولہ بارود خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق، اب تک 1200 سے زیادہ پیٹریاٹ دفاعی میزائل ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لئے استعمال ہو چکے ہیں؛ جن میں سے ہر ایک کی قیمت 4 ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ پینٹاگون کے اندرونی تخمینے بتاتے ہیں کہ ان میزائلوں کے ذخائر تشویشناک سطح پر آ گئے ہیں اور صورتحال چند ماہ قبل سے بھی زیادہ خراب ہے۔
فوجی کمانڈروں کا انتباہ
نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ جنرل ڈین کین (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف) نے نجی نشستوں میں ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ اگرچہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنا فوجی اعتبار سے ممکن ہے، لیکن اس سے سینٹکام کے پاس موجودہ دفاعی میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب اردن میں تین امریکی فوجی پیٹریاٹ سسٹمز کی ناکامی کے بعد مارے گئے اور اس واقعے نے ایئر-میزائل ڈیفنس کے ذخائر کی کمی پر امریکی حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کیا۔
سفارت کاری: "جھانسہ" یا "حقیقت؟"
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اگرچہ عوامی طور پر "سفارت کاری کو مہلت" دینے اور ایران کو الٹی میٹم دینے کی باتیں کر رہا ہے، مگر حقیقت میں اس کا پیچھے ہٹنا خوف اور عملی مجبوریوں کی وجہ سے ہے؛ نہ کہ سفارتی خیرسگالی کی بنا پر۔
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ جمعہ کی نشست میں ٹرمپ کے سینئر مشیروں اور کابینہ کے ارکان نے اس صورتحال کا جائزہ لیا، اور زیادہ تر گفتگو پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر ایئر-میزائل ڈیفنس نظاموں کی صورتحال پر مرکوز رہی۔
ایران پر حملے ناکام کیوں رہے؟
رپورٹ کے مطابق، امریکی حملے نہ صرف ایران کو جوابی حملوں سے روکنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ اس کے الٹے اثرات بالکل نمایاں ہوئے ہیں:
• ایرانی قوم کا اتحاد: امریکی حملوں نے ایرانی عوام اور قیادت کو زیادہ متحد اور بیرونی خطرے سے نمٹنے پر مرکوز کر دیا ہے۔
• آبنائے ہرمز ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اس خطے کی ـ ٹرمپ کی اعلان کردہ ـ بحری ناکہ بندی تعطل کا شکار ہے۔
• مذاکرات رکے ہوئے ہیں اور ایران اپنی تیل برآمدات (خاص طور پر چین کو) بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ